Thursday, February 3, 2011

Monday, January 24, 2011

Ibrahim Shahid, set a new world record by scoring 23 A's in Cambridge O level exams.



Shahid, a student of a private school in Islamabad, sat for 24 subjects and scored 23 As.
ISLAMABAD: A student in Islamabad, Ibrahim Shahid, set a new world record by scoring 23 As in Cambridge O level exams.
Shahid, a student of a private school in Islamabad, sat for 24 subjects and scored 23 As.
Attributing his success to his parents, Shahid recalled an incident where his teacher in Australia had written him off, stating that he would “never excel”. He added that every child is special and everyone has their own capabilities.
Earlier, Ali Moeen Nawazish, also a Pakistani student, had set a world record by securing 23 As in A level Cambridge exams.

Thursday, January 20, 2011

’فیس بک کی سکیورٹی کمزور‘


’فیس بک کی سکیورٹی کمزور‘

فیس بک
فیس بک کی مقبولیت ہیکرز کے لیے فائدہ مند ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیس بُک کو اپنی سکیورٹی سیٹِنگز کو ایپل کے ایپ سٹورکے معیار کا کر لینا چاہیے۔
سکیورٹی کی کمپنی ’سوفوز‘ کا کہنا ہے کہ فیس بک پر درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس میں سکیورٹی ناقص ہے۔
سوفوز نے یہ بات اپنی انٹرنیٹ سکیورٹی پر رپورٹ ’تھریٹ رپورٹ 2011‘ میں کہی ہے۔ اس کی تجویز ہے کہ فیس بک کو اس معیار کی سکیورٹی استعمال کرنی چاہیے جیسے ایپل کا ایپ سٹور استعمال کرتا ہے۔ ایپل ہر اس پروگرام کی چھان بین اور سکیورٹی چیکنگ کرتا ہے جو اسے ایپ سٹور پر دستیاب ہے۔
تاہم فیس بک نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیق کے مطابق صورتحال بالکل اس کے بر عکس ہے اور اصل میں اس نے اپنے صارفین کی مکمل تحفط کے لیے اقدامات کیے ہوئے ہیں۔
فیس بک کا کہنا ہے کہ ’ہماری ایک خصوصی ٹیم موجود ہے جو اس کو دیکھتی ہے اور سب سے بڑے خطرات کا جائزہ لیتی ہے۔‘
تاہم سوفوز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فیس بک اس وقت انٹر نیٹ فراڈ کرنے والوں کا سب سے بڑا نشانہ ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ فیس بک اتنی مقبول سائٹ ہے لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ فیس بک کسی بھی شخص کو اپلیکیشن، گیمز اور جائزے بنانے کی اجازت دے دیتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے فیس بک کو تو فائدہ ہوتا ہے لیکن صارفین کے لیے یوں خطرناک ہے کہ لوگ اکثر دھوکے میں آ سکتے ہیں اور ہیکرز صارفین کی تمام خفیہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیس بک کو ذمہ داری لے کر اپنی سائٹ پر دستیابی سے پہلے ان ایپس کی چھان بین کرنی چاہیے۔

Wednesday, January 19, 2011

کولمبیا:سمگلر کبوتر کی’گرفتاری‘

کولمبیا:سمگلر کبوتر کی’گرفتاری‘

کبوتروں کو موبائل فون کے سم کارڈ جیل پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے
لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا کبوتر پکڑا ہے جس کی مدد سے جیل میں منشیات پہنچائی جاتی تھیں۔
پولیس کے مطابق اس کبوتر کو ملک کے شمالی مشرقی شہر بکارامانگا میں پکڑا گیا اور اس کی پشت پرگانجا اور کوکین باندھی گئی تھی۔
حکام کے مطابق پینتالیس گرام وزن کی منشیات لے کر اڑنا کبوتر کے بس میں نہ تھا اور اسی لیے وہ پکڑا گیا۔
مقامی پولیس کمانڈر کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جیل سے ایک بلاک فاصلے پر ایسا کبوتر ملا جو منشیات کے ساتھ پرواز کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن وزن کی زیادتی کی وجہ سے وہ اپنا مشن مکمل نہ سکا۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ اس کبوتر کی تربیت قیدیوں یا پھر ان کے ساتھیوں نے کی تھی۔
.کولمبیا پولیس کے مطابق ماضی میں کبوتروں کو جیل میں موبائل فون کے سم کارڈ سمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

Thursday, January 13, 2011

Google brings real-time speech translation to your Android phone

Google brings real-time speech translation to your Android phone



Everybody loves sci-fi technology, but it's awesome to see it happen for real. That's the case with the new Google Translate for Android, which is on the verge of breaking the language barrier and change our world forever.
Ok, the case is surely exaggerated, but imagine a world where everyone speaks its native language and the others understand him perfectly (Farscape fans sigh here). This is not what the current Google Translate does, but it's the first step to that technology, so it's important.
The latest version of Google Translate for Android includes the experimental Conversation Mode, which currently works only between English and Spanish. You hit the English microphone icon and speak, then your words are translated and spoken in Spanish (or vice versa).
Google Translate has a new look too, but we're sure the most interesting part will be the Conversation Mode. In a previous demonstration, Google showed it working between English and German, so we guess other language updates will follow soon.
The updated app is available for Android 2.1 and above devices and you can get it from the Market right away.